ماں باپ بننا دراصل محبت کی ایک ایسی ریاضت ہے جس میں عبادت کی سی خوشبو ہے — اور یہ راز صرف انسان کے پاس نہیں۔ قدرت کے کارخانے میں جدھر بھی نظر اٹھائیے، ماں باپ اپنی جان پر کھیل کر اپنے بچوں کو جیون دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ برف کے دیس کی ریچھنی اپنے آپ کو برف کے غار میں بند کر لیتی ہے اور آٹھ مہینے تک بھوکی رہ کر اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے، یہاں تک کہ اُس کا آدھا وجود گھل جاتا ہے۔ قطب کی یخ بستہ راتوں میں پینگوئن باپ ایک انڈا اپنے قدموں پر رکھے، طوفانوں میں ساکت کھڑا رہتا ہے — دو مہینے نہ کچھ کھاتا ہے، نہ اپنی جگہ چھوڑتا ہے۔ اور مادہ آکٹوپس تو اپنے انڈوں کی پہرے داری میں کھانا پینا ایسا ترک کرتی ہے کہ بچوں کے جاگنے تک اُس کی اپنی شمعِ حیات بجھ چکی ہوتی ہے۔

عقاب کا سبق

مگر اِن سب میں سب سے بڑا سبق ہمیں عقاب دیتا ہے۔ مادہ عقاب پہاڑ کی بلند چٹان پر کانٹوں اور سخت ٹہنیوں کا گھونسلا بُنتی ہے، اور پھر اپنے ہی سینے کے نرم پَر نوچ کر اُس میں بچھا دیتی ہے — اپنی گرمی لُٹا کر بچوں کے لیے بستر بناتی ہے۔ لیکن اصل کمال اِس سے آگے ہے۔ جب بچے پلنے لگتے ہیں تو وہی ماں جان بوجھ کر گھونسلے کی نرمی بکھیرنا شروع کر دیتی ہے، جس آرام کی عادت پڑ چکی تھی وہ خود ہی چھین لیتی ہے، اور پھر بچوں کے سروں پر — ذرا فاصلے پر — اڑتی رہتی ہے، یہاں تک کہ بھوک اور جبلت اُنہیں کنارے تک دھکیل دیتی ہے۔ ایک ایک کر کے وہ پَر کھولتے ہیں، گرتے ہیں — اور اُڑ جاتے ہیں۔

یہ سنگ دلی نہیں، دانائی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ جو پرندہ گھونسلا نہیں چھوڑتا، وہ کبھی عقاب نہیں بنتا۔ ماں کی محبت اِس سے نہیں ناپی جاتی کہ اُس نے بچوں کو کتنی دیر اٹھائے رکھا، بلکہ اِس سے کہ اُس نے اُنہیں اپنے بغیر اُڑنا کتنا سکھا دیا۔

جو پرندہ کبھی گھونسلا نہیں چھوڑتا، وہ کبھی عقاب نہیں بنتا۔

انسان کا تاج، سب سے بھاری

مگر یہیں آ کر انسان کا معاملہ سب سے جدا ہو جاتا ہے۔ جنگل میں قربانی شدید سہی، مختصر ہوتی ہے — ایک موسم کی بھوک، چند ہفتوں کی ٹھنڈ — اور پھر بچے چل پڑتے ہیں، گھنٹوں یا مہینوں میں خودمختار۔ ہماری اولاد ہمارا ہاتھ بیس بیس برس تھامے رکھتی ہے۔ ہماری قربانی صرف تن کی نہیں — یہ عشروں پر پھیلی فیسوں، رت جگوں کی فکر اور خاموش دعاؤں کی قربانی ہے۔

اور پھر وہ بوجھ جو کسی جانور کے حصے میں نہیں آیا: روح کی آبیاری۔ شیر کے بچے کو بس شکار سیکھنا ہے؛ ہمارے بچے کو یہ سیکھنا ہے کہ جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی سچ بولے، جہاں نقصان ہو وہاں بھی نرمی برتے، اور گر کر پھر اٹھے اور پھر کوشش کرے۔ یہ کام کسی ایک موسم میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہ برسوں کی محنت ہے — اور انسان کی ولدیت کا اصل وزن یہیں ہے۔

ہمارے زمانے کا کڑا امتحان

یہ کام ہر دور میں مشکل تھا، مگر ہمارے دور میں اور کٹھن ہو گیا ہے۔ کل تک کوئی بچہ صرف دو ہاتھوں میں نہیں پلتا تھا۔ ہمارے گاؤں اور مشترکہ گھرانوں میں پورا کنبہ یہ بوجھ بانٹتا تھا — دادی چھوٹوں کی نگہبان، خالہ بیماری میں سہارا، اور چچا، ماموں اور محلے دار جو رشتے میں نہ سہی، درد میں گھر والے تھے۔ ماں تھک جاتی تو گود لینے والے اور ہاتھ موجود تھے، اور بھٹکتے بچے کو ٹوکنے والی اور آوازیں بھی۔

وہ دنیا چپکے چپکے رخصت ہو رہی ہے۔ آج گھرانے چھوٹے اور بکھرے ہوئے ہیں، شہروں میں اُن بزرگوں سے دور جو کبھی سائبان تھے۔ بہت سے گھروں میں ماں باپ دونوں ملازمت کرتے ہیں، اور دفتر، گھرداری اور شہری زندگی کے نہ ختم ہونے والے تقاضوں کے بیچ دو انسان وہ کام کر رہے ہیں جو کبھی پورا گھرانہ مل کر کرتا تھا۔ گھر میں پیسہ گنتی کا ہو یا فراوانی کا — آج جس چیز کا قحط سب سے زیادہ ہے وہ ایک ہی ہے: وقت، اور بانٹنے والے ہاتھ۔

اگر کبھی آپ کو لگے کہ آپ کم پڑ رہے ہیں — کہ دوسرے ماں باپ زیادہ سکون، زیادہ وقت اور زیادہ صبر کے ساتھ سب سنبھالے ہوئے ہیں — تو ایک گہری سانس لیجیے۔ آپ ناکام نہیں ہو رہے۔ آپ بس دو ہاتھوں سے وہ کام کر رہے ہیں جو کبھی دس ہاتھوں کا تھا۔

تعلیم کا بوجھ

یہ کمی جس جگہ سب سے زیادہ چبھتی ہے، وہ تعلیم ہے۔ ہر گھر میں، ہر ماں باپ کی تمنا ہے کہ بچہ خوب پڑھے اور خوب نمبر لائے — اور مقابلہ آج جتنا سخت کبھی نہ تھا۔ تعلیم ہر سال مہنگی ہوتی جاتی ہے، امتحانوں کے انداز بدلتے رہتے ہیں، اور بہترین جماعت بھی ہر بچے کو وہ انفرادی مشق نہیں دے سکتی جو مہارت مانگتی ہے۔ سو ہر ماں باپ کچھ اور ڈھونڈتے پھرتے ہیں جو بچے کے ہاتھ میں تھما سکیں۔

اِسی احساس نے ایتھنز اکیڈمی اسلام آباد کے آن لائن مطالعاتی پورٹل کو جنم دیا۔ یہاں طلبہ کے لیے محنت سے تیار کیے گئے اعلیٰ معیار کے نوٹس ہیں اور باقاعدہ کوئز کی مشق — اور آج کے امتحانوں میں مشق کا یہی مسلسل وظیفہ خاموشی سے اچھے نتیجوں کی ریڑھ بن چکا ہے۔ یہ نہ اچھے اسکول کا نعم البدل ہے، نہ شفیق استاد کا؛ یہ تو گھر کی دہلیز پر میسر ایک سچا سہارا ہے — اُس بچے کے لیے جو محنت کرنا چاہے، اور اُن ماں باپ کے لیے جو اُس کے شانہ بشانہ چلنا چاہیں۔

اصل مقصد، سب سے اونچا

مگر یہ کبھی نہ بھولیے کہ اتنی ساری قربانی آخر کس لیے ہے۔ اسلام میں والدین کا رتبہ بہت بلند ہے — مگر صرف روٹی کپڑے کے ناتے نہیں۔ بڑا فرض، اور بڑا اجر، اُس اولاد کی پرورش میں ہے جو کردار میں کھری ہو: ایک اچھا اور کارآمد انسان، جو معاشرے اور انسانیت کی بہتری کے لیے کوشاں ہو اور ایک منصفانہ دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے۔

”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اُس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین کے: صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، یا نیک اولاد جو اُس کے لیے دعا کرے۔“

— نبی کریم ﷺ

اور دیکھیے، اِس وعدے کے عین بیچ میں کیا کھڑا ہے: نفع بخش علم۔ ہمارا دین ہم سے یہ نہیں کہتا کہ نیک اولاد اور پڑھی لکھی اولاد میں سے کوئی ایک چن لو — وہ دونوں کا حکم دیتا ہے، کیونکہ علم کی طلب ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ٹھہرائی گئی ہے۔ سو اپنے بچے کو اپنی استطاعت بھر بہترین تعلیم دیجیے — اور پھر استطاعت سے تھوڑا بڑھ کر۔ اُس کے ساتھ کتابوں پر بیٹھیے، اُس کے لیے مشق کا سامان ڈھونڈیے، اور اُس کی صلاحیت کو رائیگاں مت جانے دیجیے۔ اُس عقاب کی طرح جو پہلے گھونسلا سجاتا ہے اور پھر اُڑان سکھاتا ہے — ہمارا کام بھی دونوں ہیں: پناہ بھی، اور پرواز کی تیاری بھی۔

جس دن بچہ علم کو ذہن میں اور خدا کو دل میں بسائے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، اُس دن کائنات کے ہر ماں باپ کی قربانی اپنا سچا اور سدا رہنے والا اجر پا لیتی ہے۔