حال ہی میں وفاقی تعلیمی بورڈ (FBISE) نے نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت 96 سے 100 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو A++ ("Extraordinary") اور 91 سے 95 فیصد والوں کو A+ ("Exceptional") گریڈ دیا جا رہا ہے۔

بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی تبدیلی ہے، مگر اِس کے پیچھے چھپا سوال بہت گہرا ہے: کیا اِس فیصلے کا نتیجہ ہماری نوجوان نسل کو ایک بار پھر رٹا سسٹم (Rote Learning) کی زنجیروں میں جکڑنا نہیں ہوگا؟

‏A++ آخر ہے کہاں؟

پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ A++ نامی گریڈ دنیا کے بڑے اور معتبر امتحانی نظاموں میں کہیں موجود نہیں۔ کیمبرج کے بین الاقوامی نظام میں IGCSE اور A Level کا سب سے اعلیٰ گریڈ A* ہے، اور O Level میں تو سب سے اونچا درجہ صرف A ہے۔ برطانیہ میں 2017 سے GCSE کے نتائج 9 تا 1 کے عددی پیمانے پر دیے جاتے ہیں، جس میں 9 سب سے اعلیٰ درجہ ہے، یعنی برطانیہ حروف کی سیڑھیاں بڑھانے کے بجائے سادہ عددی نظام کی طرف چلا گیا۔ بین الاقوامی بکلوریٹ (IB) ڈپلومہ پروگرام میں ہر مضمون کا گریڈ 1 سے 7 تک ہوتا ہے، جس میں 7 سب سے اعلیٰ ہے۔ امریکی نظام میں بھی بات A یا زیادہ سے زیادہ A+ پر ختم ہو جاتی ہے۔

تو پھر سوال بنتا ہے: جو گریڈ نہ کیمبرج میں ہے، نہ IB میں، نہ GCSE میں، وہ پاکستان میں کیوں متعارف کرایا جا رہا ہے؟ دنیا اپنے گریڈنگ سسٹم سادہ اور دباؤ سے پاک بنا رہی ہے، اور ہم 95 اور 96 فیصد کے درمیان ایک نئی لکیر کھینچ کر نمبروں کی دوڑ کی سیڑھی مزید اونچی کر رہے ہیں۔ ہم عالمی بہترین طریقے (Global Best Practices) اپنانے کے بجائے اُن کے الٹ کیوں چل رہے ہیں؟

سوال کیجیے: کیوں؟

ذرا سوچیے۔ جب ہم 90 اور 95 فیصد کے درمیان ایک نئی دیوار کھڑی کرتے ہیں تو بچے کو کیا پیغام دیتے ہیں؟ یہی کہ "بیٹا، A+ کافی نہیں، اب A++ چاہیے۔" کامیابی کی لکیر مزید اوپر کھینچ دی گئی اور بچے پر دباؤ کا ایک اور پہاڑ لاد دیا گیا۔ ایک ایک نمبر کی اِس دوڑ میں جو بچہ پہلے ہی پریشر ککر بنا ہوا تھا، وہ اب مزید گھٹن کا شکار ہوگا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ خود FBISE نے گریڈنگ سسٹم متعارف کراتے وقت باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ نتائج نمبروں کے بجائے گریڈز میں دینے کا مقصد "نمبروں کی دوڑ کے کلچر کو ختم کرنا" ہے۔ اور آج وہی ادارہ سب سے اوپر ایک اور خانہ بنا کر اُسی دوڑ کو نیا میدان دے رہا ہے۔ یہ اپنے ہی اعلان کردہ مقصد سے انحراف ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچے کو صرف تعلیمی کارکردگی (Academic Performance) کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ فکرِ معاش نے ہمیں کچھ اِس طرح اُلجھایا کہ بچے کو بچپن ہی سے ایک ہدف تھما دیا گیا: "اچھے نمبر نہیں آئیں گے تو اچھی نوکری نہیں ملے گی۔" پھر تعلیمی اداروں کی بقا کا ذریعہ بھی یہی نمبر بن گئے، کیونکہ اُن کی پہچان رزلٹ کے اشتہارات سے ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ جو ادارے تربیت گاہ ہونے چاہیے تھے، وہ آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ کے مراکز بنتے چلے گئے۔

دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کہاں؟

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا کے بڑے ادارے اور کاروباری رہنما کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ڈگریوں اور نمبروں کا دور اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، اور آنے والا زمانہ مہارتوں پر مبنی تعلیم (Skills-based Education) کا ہے۔

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک (Elon Musk) نے بھرتی کے حوالے سے واضح کہا کہ "پی ایچ ڈی کی ہرگز ضرورت نہیں"، اُنہیں پرواہ نہیں کہ امیدوار نے ہائی اسکول بھی مکمل کیا ہے یا نہیں؛ تعلیمی پس منظر غیر متعلق ہے، اصل چیز گہری سمجھ اور عملی مہارت ہے۔ اُن کا بھرتی کا اصل سوال یہ ہے: "اِس شخص نے ایسا کیا کِیا ہے جو اُس کی غیر معمولی صلاحیت کا واضح ثبوت ہو؟"
ایپل (Apple) کے سی ای او ٹم کُک (Tim Cook) کہتے ہیں کہ ایپل ہر پس منظر کے لوگ بھرتی کرتا ہے، ڈگری والے بھی اور بغیر ڈگری والے بھی؛ جس خوبی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا وہ مل کر کام کرنے کی صلاحیت (Collaboration) ہے۔ گوگل اور ایپل جیسی کمپنیاں ملازمین کے لیے کالج ڈگری کی شرط ختم کر چکی ہیں۔

عالمی اقتصادی فورم (World Economic Forum) صاف الفاظ میں لکھتا ہے کہ مستقبل کے کام کا انحصار کالج ڈگریوں پر نہیں بلکہ عملی مہارتوں (Job Skills) پر ہوگا۔ اِسی فورم کی Future of Jobs Report 2025 کے مطابق آجروں کا اندازہ ہے کہ 2030 تک ملازمتوں کے لیے درکار بنیادی مہارتوں کا 39 فیصد بدل جائے گا، اور تخلیقی سوچ، لچک، تجسس اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہیں۔ ماہرین مہارتوں کی "نصف زندگی" (Half-life of Skills) کی بات کرتے ہیں، جو سکڑ کر تقریباً پانچ برس رہ گئی ہے۔

اور اِن سب کے اوپر مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد ہے، جس نے معلومات یاد کر کے دہرا دینے والے ہمارے پورے نظامِ تعلیم کو فرسودہ کر دیا ہے۔ جو معلومات ہمارا بچہ برسوں رٹتا ہے، وہ اب ایک لمحے میں ہر شخص کو دستیاب ہیں۔ ایسے میں صرف رٹنے والا بچہ کہاں ٹھہرے گا؟

ایک طرف دنیا اپنے نظام سادہ کر رہی ہے، ڈگری کی شرطیں ختم کر رہی ہے اور مہارتوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف ہم نمبروں کے نئے خانے ایجاد کر کے بچے کو اُسی دوڑ میں مزید دھکیل رہے ہیں جس سے دنیا نکل رہی ہے۔

حکومت اور FBISE سے واضح مطالبہ: A++ ختم کیا جائے

میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ A++ گریڈ ختم ہونا چاہیے۔ 90 فیصد سے اوپر A+ ہی کافی ہے، بلکہ یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ جو درجہ کیمبرج، IB اور GCSE جیسے دنیا کے معتبر ترین نظاموں میں کہیں موجود نہیں، اُسے پاکستان میں رائج کرنے کا کوئی تعلیمی جواز نہیں؛ اِس کا واحد حاصل مزید رٹا اور مزید ذہنی دباؤ ہے۔

FBISE کو اپنی توجہ نمبروں کے نئے خانے بنانے کے بجائے اِس سوال پر مرکوز کرنی چاہیے کہ ہمارا امتحانی نظام سوچ، تجزیے اور اطلاق (Application) کو کیسے پرکھے، جیسا کہ دنیا کے بہترین نظام کر رہے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کے لیے راستہ

اب اصل ضرورت یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ اپنے بچوں میں سوال کرنے کی جرأت پیدا کریں۔ اُنہیں یہ پوچھنے کا حوصلہ دیں کہ "کیوں؟" کیونکہ سوچنے اور سوال کرنے والا ذہن ہی کل کا رہنما بنتا ہے، رٹا لگانے والا نہیں۔

خدارا اپنے بچے کو نہ نمبروں کے ترازو میں تولیں اور نہ کسی اور کی کامیابی کی کہانی پر رکھ کر پرکھیں۔ اُسے اِس نمبر گیم کی اذیت سے نکال کر خودمختاری (Independence) دیں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی خود کرنے دیں۔ نگرانی ضرور کریں، مگر کچھ فیصلوں میں آزادی بھی دیں۔ اُس کے ذہن سے یہ بوجھ اُتاریں کہ نوکری کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔

اُسے وہ ہنر سکھائیں جو دنیا مانگ رہی ہے: مؤثر ابلاغ (Communication Skills)، مل جل کر کام کرنے کا سلیقہ (Team Building)، غیرت و خودداری کا احساس، جسمانی تندرستی، اور سب سے بڑھ کر اللہ پر اور اپنی ذات پر پختہ یقین۔ غیر نصابی سرگرمیوں، سوسائٹیز، ادب اور مہارتوں میں اُسے سو فیصد پر لے آئیں۔ اداروں سے مطالبہ کریں کہ ساٹھ فیصد نمبر بھی چل جائیں گے، ہمارے بچے کی شخصیت مضبوط بنا دیں۔

جس دن ہمارا بچہ نمبروں کی دوڑ سے نکل کر اپنی شخصیت (Personality) کی بنیاد پر پرکھا جانے لگے گا، اُسی دن ہماری نئی نسل حقیقی معنوں میں قائد بنے گی۔ اور یہ دن اُسی وقت آئے گا جب ہمارے ادارے دنیا سے کٹی ہوئی A++ جیسی نمائشی سیڑھیاں بنانے کے بجائے عالمی معیار کی حقیقی تربیت پر توجہ دیں گے۔

#FBISE #APlusPlus #GradingSystem #RoteLearning #SkillsOverDegrees #PakistanEducation #EducationReform ‫#تعلیم #نمبروں_کی_دوڑ #پاکستان‬